ابنا: ایران کے اسلامی انقلاب نے دنیا کے سامنے ایک نیا حکومتی نظام پیش کیا جس کی جڑیں قرآن اور اسلامی تعلیمات میں پیوست ہیں اور سیاسی اور سماجی میدانوں میں عوام کی شر کت پر تاکید کرتا ہے ۔ایران کا اسلامی انقلاب لوگوں کو اعلی اور سعادت مند زندگی کی طرف دعوت دیتا ہے اور عدل وانصاف اس کا اہم ترین نعرہ ہے ۔ اسی لئے مختلف ممالک کے مسلمان مختلف میدانوں میں اسلامی جمہوریہ کی قابل دید کامیابیوں کو د یکھتے ہوئے اپنے ممالک کے سیاسی ڈھانچے میں گہری تبدیلیاں لے آئے ہیں جو اسلامی بیداری کا نتیجہ ہے۔رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کہتے ہیں کہ اسلامی بیداری درحقیقت ایک گہری اور عمیق خود آگہی ہے جو اسلامی تعلیمات کے پر تو میں مسلمان اقوام کو فکری ،سیاسی اور اقتصادی قید سے نجات دلاکر انھیں ترقی و عزت اور ان کے درمیان اتحاد قائم کرنا چاہتی ہے ۔ مصر،لیبیا، یمن اورتیونس کے عوام نے ظلم واستبداد اور ذلت ورسوائی سے تنگ آکر اسلام پسندی کا نعرہ لگایا۔ اسلام اور اسلامی نظام کے مطالبے کی لہر ایسی چلی کہ اس نے حسنی مبارک ،بن علی ، قذافی اور علی عبداللہ صالح جیسے ڈکٹیٹروں کی حکومتوں کا بہت ہی کم مدت میں تختہ الٹ کر رکھدیا ۔٭٭٭٭٭اس میں کوئی شک نہیں کہ انقلاب اسلامی ایران اور خطے کی اسلامی تحریکوں کے درمیان بہت سے مشترکات پائے جاتے ہیں کہ جن کی جڑیں عالم اسلام کی اقدار میں پیوست ہیں ۔ایک قدر مشترک یہ ہےکہ انقلاب اسلامی ایران اور حالیہ انقلابی تحریکوں کی بنیاد یں وحدانیت خدا اور پیغمبر اسلام کی رسالت پر استوار ہیں اور اسلام پسندی ان کا بنیادی ہدف ہے ۔انقلاب اسلامی ایران اور حالیہ تحریکوں کے درمیان ایک اور قدر مشترک ان تحریکوں کا عوامی ہونا ہے یہ خصوصیت انقلاب اسلامی میں بہت ہی اچھے انداز میں نمایا ں ہوئی اور عوام نےمختلف سماجی اور سیاسی میدانوں میں حاضر ہوکر دنیا کے سامنے حقیقی جمہوریت کو پیش کیا۔ انقلاب اسلامی ایران اور خطے کی حالیہ تحریکوں کے درمیان ایک قدر مشترک یہ ہےکہ دونوں کے دشمن مشترک ہیں ۔یعنی امریکہ اور اسرائل کی قیادت میں عالمی استکبار دونوں کا دشمن ہے جواسلام اور اقوام کی آزادی وخود مختاری کے لئے خطرہ ہے ۔ انقلاب اسلامی ایران اورحالیہ اسلامی تحریکوں کی اہم ترین خصوصیت یہ ہےکہ دونوں مغرب سے عدم وابستگی اوراپنے ممالک کے قومی مفادات کی بنیاد پر استقلال و آزادی پر تاکید کر تے ہیں ۔ درحقیقت ایران کے اسلامی انقلاب نے دنیا کے مسلمانوں کوان کے حقوق اور صلاحیتوں سے آگاہ کیا اور داخلی وخارجی استبداد کے نہ ٹوٹنے والے طلسم کو توڑ کر رکھدیا ۔اس اہم مسلئے نے مسلمان اقوام کی جرائت و شجاعت میں اضافہ کر دیا اورانھیں خود اعتمادی عطا کردی۔اس وقت اسلامی بیداری کی لہر بڑی تیزی کے ساتھ آگے کی سمت بڑھ رہی ہے اور کسی مطلوب نتیجہ تک پہونچنے والی ہے۔٭٭٭٭٭گزشتہ برس اسلامی ممالک میں عوامی تحریکوں کے ساتھ تہران نے خطے میں مؤثر کردار ادا کیا اور انقلابی تحریکوں کے رہنماؤں کی فعال شرکت کے لوگ شاہد تھے ۔ تیرہ سو نوے ہحری شمسی میں مصر، تیونس ، لیبیا اور بعض انقلابی ممالک سے مختلف گروہ ایران آئے اور انھوں نے ایران کے اعلی حکام سے ملاقات اور گفتگو کی ۔اس کے علاوہ تہران نے مختلف انقلابی گروہوں کے لئے خصوصی اور مختلف قسم کے اجلاس منعقد کرائے تاکہ ایران اپنے تجربات کو منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ ان گروہوں کے ساتھ مستقبل میں اسلامی بیداری تحریکوں کے لئے درپیش چیلنجوں اور مختلف مسائل کا بھی جائزہ لے سکے۔ تہران میں گزشتہ برس اسلامی بیداری کے پہلے بین الاقوامی اجلاس کا نو جوانوں اور اسلامی بیداری کے عنوان سے انعقاد اسلامی تحریکوں کی حمایت کے بارے میں اولین اجلاس تھا ۔تہران میں یہ اجلاس سترہ اور اٹھارہ ستمبرسن دوہزارگیارہ کو منعقد ہوا اور انتیس و تیس جنوری بارہ کو بھی بین الاقوامی اسلامی بیداری کا اجلاس منعقد ہوا جس میں دنیا کی مختلف اسلامی تنظیموں اور مراکز کے ایک ہزار سے زیادہ سیاسی اور علمی میدانوں میں فعال اور ممتاز جوا نوں نے شرکت کی۔اس کے علاوہ اس اجلاس میں دنیا کے مختلف ممالک خاص طور پر عالم اسلام کے سیکڑوں علماء دانشور، روشن خیال ،صاحبان نظر،ماہرین سماجیات ،مورخین اورانقلابی جوانوں نے شرکت کی ۔ لبنان ،مصر، عراق اور خطے کے بہت سے ممالک سے بھی انقلابی اور فعال سیاسی گروہوں نے اس اجلاس میں شرکت کی تاکہ اسلامی بیداری کی تحریک اور اس سے متعلق مسائل کا جائزہ لےسکیں ۔ اس اجلاس میں شرکت کرنےوالوں نے اجلاس میں شرکت کے بعد رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی اور آپس میں صاحبان نظر اساتذہ ،اور دانشوروں نےتبادلہ خیال کیا۔ ان دونوں اجلاس میں خصوصی کمیشن کی چھ میٹنگیں بھی منعقد ہوئیں۔ ایک میٹنگ میں فکری ،نظری اصولوں اور اسلامی بیداری کے فروغ کے اسباب کا جائز ہ لیا گیا۔ اور ایک میٹنگ میں حاکمیت اسلام اور جوانوں کے کر دار کا جائزہ لیا گیا جبکہ دوسری میٹنگوں میں اسلامی بیداری کے مقابل امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں عالمی سامراج کی سازشوں اور دیگر بہت سے مسائل پر تنقید اور گفتگو کی گئی ۔ خصوصی میٹنگوں میں اسلامی بیداری کو لاحق خطرات اور مواقع اور مستقبل میں اسلامی بیداری کے افق کا بھی جائزہ لیا گیا ۔٭٭٭٭٭ اسلامی بیداری اجلاس میں شرکت کرنےوالوں نے اسلامی بیداری تحریکوں کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کر تے ہوئے اجلاس اور مختلف میٹنگوں میں پیش کئے گئے نظریات اورتجاویز کو مفید قراردیا اور آیندہ بھی اس طرح کے اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا ۔ لہذا اجلاس کے اعلامیہ میں طے پایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس سلسلے میں اہتمام کرے گا۔ ا علامیہ کی ایک شق میں آیا ہے کہ اسلامی بیداری کی بالندگی و استمرار ، باہمی تعلقات اور تعاون میں فروغ ،تجربوں کی منتقلی،مواقع اور خطرات کا تجزیہ اور اس کے حل کےلئے حکمت عملی، اسلامی بیداری کے عالمی مرکز کی تشکیل اور تہران میں سیکریٹریٹ قائم کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیکٹریٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اسلامی بیداری کے بعد میں نوبت کے ساتھ ہونے والے اجلاسوں اور خصوصی میٹنگوں کے لئے مقدمات اور عالم اسلام کے دانشوروں اور ماہرین کے درمیان مسلسل رابطہ قائم رکھنے کا انتظام کرے گا۔اس اجلا س کے سلسلے میں عالمی سطح پر رد عمل سے مغربی ممالک کےخوف ہراس کا پتہ چلتا ہے کہ مغربی ممالک تہران اوران ممالک کے انقلابی گروپوں کے درمیان تعلقات سے سخت پریشان اور خوف زدہ تھے جن کے اندر اسلامی بیداری کی لہر آئی ہوئی ہے لیکن خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ انقلابی جوان اور اسلامی ممالک سے آنے والے گروپ ایرانی حکام خاص طور پر رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کرنے کے بہت زیادہ مشتاق تھے ۔مثال کے طورپر مصر کے جوان نامہ نگاروں اور مصنفین نے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے بیانات کو بہت زیادہ پسند کیا اور انھوں نے رہبر انقلاب اسلامی کی قدر دانی کی اور ان کے بیان کو سرا ہا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں اسلامی ممالک کےنو جوانوں کو مستقبل میں عالم اسلام کے علمبردار ہونے کی نوید دی تھی ۔ مصری نو جوانوں نے اپنے انٹرویوز میں رہبر انقلاب اسلامی کے اس بیان کو انقلابی تحریکوں کے لئے امید افزا قرار دیا۔ اس وقت اسلامی تحریکوں نے قرآن کریم اور اسلامی نعروں پر بھروسہ اورانقلاب اسلامی ایران کی اعلی اقدار کی پیروی کر تے ہوئے ، امریکہ سے وابستہ حکام سے اپنی تقدیر کو الگ اور استقلال و آزادی کے راستے کا انتخاب کر لیا ہے ۔امام خمینی رحمت اللہ علیہ ہمیشہ اس نکتہ پر تاکید کرتے تھے کہ ہمارے انقلاب کے برآمدکر نے کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کی تمام قومیں بیدا ر ہوجایئں ۔تمام حکومتیں بیدار ہوجايئں اور خود کو مشکلات سےنجات دیں اور پورے عالم اسلام حتی دنیا کی حریت پسند قومیں انقلاب اسلامی کی برکت اور اسلامی بیداری کی روح پرور تحریکوںکے ذریعہ استکبار سے مقابلہ کے لئے آمادہ ہوجایئں اوراللہ اکبر کے نعروں سے پوری دنیا کو ہلا دیں ۔
.......
/169